حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعہ کے دن ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت میں ملک بھر میں شیعہ مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے پُرامن احتجاج کیا اور شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

احتجاجی مظاہرے شیعہ علماء کونسل پاکستان، ایم ڈبلیو ایم پاکستان، آئی ایس او، جے ایس او، انجمنِ امامیہ بلتستان اور دیگر مذہبی انجمنوں کی جانب سے کیے گئے۔
اس موقع پر شہداء سے تجدیدِ عہد اور شہداء کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔

مظاہرین نے دہشت گردوں کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں مذہب اور ملک دشمن عناصر قرار دیا۔
مظاہرین نے اس بات کا اعلان کیا کہ دہشتگردی سے مکتبِ تشیع کا عزم کمزور نہیں ہوگا، کیونکہ مکتبِ تشیع کے ہاں مکتبِ کربلا بطورِ نمونہ موجود ہے۔

پاکستان بھر میں دہشتگردی کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شریک مظاہرین نے حکومت وقت سے اسلام آباد سانحے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
واضح رہے گزشتہ روز اسلام آباد میں شہداء کی اجتماعی تشییع جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کر کے ایک مرتبہ پھر دشمنوں کی سازشوں کو خاک میں ملا دیا۔

ادھر سکردو بلتستان میں شہداء کا عظیم الشان استقبال کیا گیا اور انہیں زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

شیعہ علماء نے احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے مکمل اظہارِ یکجہتی کا اعلان کیا اور شہداء سے تجدیدِ عہد کا نیز اعلان کیا۔

واضح رہے اسلام آباد کا سانحہ پہلا سانحہ نہیں ہے۔
پاکستان میں اہل تشیع کو نشانہ بنانے کا سلسلہ پرانا ہے؛ تاہم آج تک مکتبِ تشیع نے احتجاجی مظاہروں میں نہ کوئی توڑ پھوڑ کی ہے اور نہ ہی ریاست مخالف نعرہ بازی کی ہے۔

پاکستان میں اہل تشیع کا ماننا ہے کہ انہوں نے ہی پاکستان کو بنایا ہے، لہٰذا پاکستان کی حفاظت بھی وہ خود کریں گے۔









آپ کا تبصرہ